WELCOME TO KHAAMAH ADABI FORUM خامہ ادبی فورم میں آپ کا استقبال ہے

yellow lemon fruit on white background

خود ساختہ علّامہ

نظم

زبیؔر گورکھپوری، ممبرا

black and white glass bottle

لہُو کانوں سے بہتا ہے کہاں تک زخم دیں خود کو

یہاں کچھ لوگ ایسے ہیں جو علّامہ کہیں خود کو

جو علّامہ کا پرچم خود اٹھائے با رہا نکلے

کسوٹی پر انھیں پرکھا تو پورے بے حیا نکلے

مجھے امید تھی جس کی تو مطلعے میں وہی دیکھا

کہیں ایطا جلی دیکھا کہیں ایطا خفی دیکھا

جو خود اپنی ہی نظروں میں ادب کے اک دلارے ہیں

مگر اشعار تو ان کے شتر گربہ کے مارے ہیں

انھیں غالب سے کم لگتی نہیں اپنی سبھی غزلیں

شکست ناروا کے غم میں ڈوبی ہیں کئی غزلیں

سمجھنا ان کا ہے ایسا کہ وہ اپنی حدوں میں ہیں

کئی ارکان ہیں ایسے تنافر کی زدوں میں ہیں

وہ فن کے خوب ماہر ہیں زمانے کو جتاتے ہیں

مگر اشعار تو تعقید کے آنسو بہاتے ہیں

وہ بھر کر شہد لائے ہیں یقیں مانو کریلے میں

سکوت معنوی در آیا ہے غزلوں کے میلے میں

سُخن کی محفلوں میں جب ادب کا جام بھرتے ہیں

تلفّظ کا قسم سے خوب قتل عام کرتے ہیں

انھیں لگتا ہے ان کی شاعری سے لوگ خائف ہیں

مگر افسوس ہے اشعار بھی ان کے تخالف ہیں

ہمیں وہ مان بیٹھے ہیں یقینًا اب حریفوں میں

تقابل جب سے دکھلایا انھیں ان کی ردیفوں میں

بڑی تذلیل کرتے ہیں یہ جملے خود نمائی کے

جو چاہیں ڈھونڈنا ملتے نہیں پہلو صفائی کے

عجب خود ساختہ استاد ہیں وہ ذات میں اپنی

نئے پیوند رکھتے ہیں ہمیشہ بات میں اپنی

جہاں چاہیں وہاں جاکر پڑھاتے ہیں نصاب اپنا

مگر بھولے سے بھی کرتے نہیں ہیں احتساب اپنا

اٹھائے پھر رہے ہیں آپ اپنے نام کا پرچم

یہ خوش فہمی کا عالم ہے عجب انسان ہیں مبہم

مجھے محفوظ رکھنا یا خدا ایسے ادیبوں سے

پناہیں مانگتا ہوں خود نمائی کی صلیبوں سے

زبیر ؔ اتنی دعا ہے یا خُدا تو آگہی دے دے

انھیں شاعر بنایا ہے تو فن شاعری دے دے