WELCOME TO KHAAMAH ADABI FORUM خامہ ادبی فورم میں آپ کا استقبال ہے
غزل بر قافیہ: اناڑی
غزل
زبیؔر گورکھپوری، ممبرا
وقت کا کوئی مصور نہ اناڑی کوئی
میں نے تصویر بنائی نہ بگاڑی کوئی
یہ کتابیں جو مری جان سے بڑھ کر ہیں ابھی
بعد مرنے کے اٹھالے گا کباڑی کوئی
موت کے کھیل میں ہر شخص یہاں ہارا ہے
جیتنے والا نہیں دیکھا کھلاڑی کوئی
جس کو امید تھی تدفین میں لاکھوں ہوں گے
لے گئی قبر تلک اس کو ہی گاڑی کوئی
میں نے خواہش کے سدا پاؤں سمیٹے رکھے
چادرِ وقت کہاں میں نے ہے پھاڑی کوئی
چند قطرے ہی ندامت کے مٹا دیتے ہیں
کتنی اونچی ہو گناہوں کی پہاڑی کوئی
خود کشی کرتے ہوئے دیکھے ہیں رشتے میں نے
دل میں چبھ جائے کبھی بات جو آڑی کوئی
کیوں عدالت نے اسے مان لیا دہشت گرد
بینک لوٹا ہے نہ بستی ہی اجاڑی کوئی
غم کے صحرا میں کوئی ایسے ملا تھا مجھ سے
جیسے خرگوش کو مل جاتی ہے جھاڑی کوئی
اس کو دیکھا جو اچانک تو زبیرؔ ایسا لگا
جیسے بنگال کا جادو ہو یا کھاڑی کوئی


